نئی دہلی، 13/ستمبر (ایس او نیوز/ایجنسی) حکومت کی جانب سے منگل کو جاری کئے گئے اعدادوشمار کےمطابق ملک میں اگست کے مہینے میں خردہ مہنگائی۷ء۴۴؍ فیصد سے گھٹ کر ۶ء۸۳؍ فیصد ہوگئی ہے تاہم ایک دوسری رپورٹ کے مطابق ملک میں غذائی اجناس کی قیمتوں میں گزشتہ ایک برس میں بھاری اضافہ درج کیاگیاہے۔ رپورٹ کے مطابق دالیں سال بھر میں ۳۷؍ فیصد مہنگی ہوگئیں جبکہ چاول کی قیمت بھی محض ایک سال میں ۹؍ فیصد بڑھ گئی ہے۔ قیمتوں میں اس اضافہ کو بے ترتیب اور ناقص بارش سے جوڑا جارہاہے۔
سبزی ترکاریوں کی قیمت میں آنے والی کمی کی بنا پر ملک میں خردہ مہنگائی اگست میں گھٹ کر ۶ء۸۳؍ فیصد ہوگئی جو جولائی میں ۷ء۴۴؍ فیصد تھی۔ اس کے بعد بھی یہ شرح ریزرو بینک آف انڈیا کے طے شدہ اصولوں کودیکھتے ہوئے باعث فکر مندی ہے۔ آر بی آئی کے مطابق خردہ مہنگائی کی اطمینان بخش شرح ۶ ؍ فیصد ہوتی ہے۔
جولائی میں کھانے پینے کی اشیاء، خاص طور سے ٹماٹر کی آسمان چھوتی قیمتوں کی وجہ سے خردہ مہنگائی کی شرح میں اضافہ درج کیاگیا تھا۔ اگست میں خردہ مہنگائی کے تعلق سے جاری کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق غذائی اجناس کی قیمتوں کی مہنگائی کی شرح گھٹ کر ۹ء۹۴؍ فیصد ہوگئی ہے جو جولائی میں ۱۱ء۵۱؍ فیصد تھی۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال جولائی میں خردہ مہنگائی کی شرح ۷ء۴۴؍ فیصد اور اگست میں ۷؍ فیصد تھی۔ ریزرو بینک آف انڈیا کو امیدتھی کہ ۲۴۔۲۰۲۳ء میں صارفین کیلئے ۵ء۴؍ فیصد تک رہےگی۔
اس بار ملک کی بیشتر ریاستوں میں بارش ۱۵؍ سے۲۵؍فیصد تک کم ہوئی ہے۔ اس کی وجہ سے فصلوں کی پیداوار میں کمی کا امکان ہے،اس لئے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ سب سے زیادہ اثر دالوں پر ہوا۔ تور دال سال بھر میں ۳۷؍ فیصد مہنگی ہو گئی ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے سے کچھ ریاستوں میں اچھی بارش ہوئی لیکن زیادہ بہتری کی امید نہیں ہے
بینک آف بڑودہ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق’’ بارش کو دیکھتے ہوئے آر بی آئی کیلئے افراط زر کی شرح ۵ء۵؍ فیصد سے نیچے رکھنا مشکل ہو گا۔ ‘‘ ان کے مطابق ’’اگرچہ اس سیزن میں اناج کی پیداوار میں اضافےکی امید ہے لیکن موسم کے حالات کی وجہ سے پیداوار متاثر ہوگی۔ سویا بین کے علاوہ تمام قسم کے غذائی اجناس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔‘‘
مرکزی حکومت کے مرکزی ذخیرہ میں ۳۱؍ اگست تک چاول کا ذخیرہ۲ء۴۳؍ کروڑ میٹرک ٹن تھاجو اگست۲۰۱۸ء کے بعد اب تک کا سب سے کم ذخیرہ ہے۔ ملک میں اول کا اسٹاک اگست ۲۰۲۲ء میں ۲ء۸؍ کروڑ میٹرک ٹن، اگست ۲۰۲۱ء میں ۲ء۹۱؍ کروڑ میٹرک ٹن، اگست ۲۰۲۰ء میں ۲ء۵۳؍کروڑ میٹرک ٹن اور اگست ۲۰۱۹ء میں ۲ء۷۵؍ کروڑ میٹرک ٹن تھا۔
ایسے وقت میں جبکہ پارلیمانی الیکشن سر پر ہیں ، مودی حکومت اس بات کی کوشش کررہی ہے کہ مہنگائی قابو میں رہے اور ووٹنگ پر اس کا اثر نہ ہو۔اس کیلئے مرکزی حکومت نے چاول، دال اور چینی کی برآمد پر پابندی لگا دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ملک میں دالوں کی مانگ کو پورا کرنے کیلئے درآمدات کو دگنا کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے خریف کی فصل میں ۱۶؍ کروڑ میٹرک ٹن پیداوار کا تخمینہ لگایا ہے مگر بارش سے فصلوں کو نقصان کی وجہ سے یہ ممکن نظر نہیں آتا۔